Κλέο 23—24 کلیو ٢٣ تا ٢٤
![]() |
| پیریاندرُس بن کیپسِیلُس کا مجسمہ |
23. [1]. Περίανδρος δὲ ἦν Κυψέλου παῖς οὗτος ὁ τῷ Θρασυβούλῳ τὸ χρηστήριον μηνύσας· ἐτυράννευε δὲ ὁ Περίανδρος Κορίνθου· τῷ δὴ λέγουσι Κορίνθιοι (ὁμολογέουσι δέ σφι Λέσβιοι) ἐν τῷ βίῳ θῶμα μέγιστον παραστῆναι, Ἀρίονα τὸν Μηθυμναῖον ἐπὶ δελφῖνος ἐξενειχθέντα ἐπὶ Ταίναρον, ἐόντα κιθαρῳδὸν τῶν τότε ἐόντων οὐδενὸς δεύτερον, καὶ διθύραμβον πρῶτον ἀνθρώπων τῶν ἡμεῖς ἴδμεν ποιήσαντά τε καὶ ὀνομάσαντα καὶ διδάξαντα ἐν Κορίνθῳ.
اور پیریاندرُس، جو کیپسِیلُس کا بیٹا تھا، یہی وہ شخص ہے جس نے تھراسِی بُولُس کو وہ پیش گوئی (وحیِ معبد) پہنچائی تھی۔ پیریاندرُس ہی کرنتھ کا جابر حکمران (طاغیہ) تھا۔
اس کے بارے میں کرنتھی بیان کرتے ہیں اور لیسبیائی بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں کہ اس کی زندگی میں ایک نہایت عظیم اور حیرت انگیز واقعہ پیش آیا: یعنی آریونِ میتھِمْنائی کو ایک ڈالفن نے اٹھا کر تائینارون تک پہنچا دیا۔ آریون اس زمانے کے تمام قیثار نوازوں میں بے مثال تھا، اور وہ پہلا انسان تھا جسے ہم جانتے ہیں جس نے دی تھی رامب کی صنف کو ترتیب دیا، اسے یہ نام دیا، اور کرنتھ میں اس کی تعلیم و تربیت کی۔
![]() |
| آریون ڈولفن پر سوار |
اس آریون کے بارے میں روایت ہے کہ وہ طویل عرصہ پیریاندرُس کے پاس مقیم رہا، پھر اس کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ اٹلی اور صِقِلیہ کی طرف سمندری سفر کرے۔ وہاں اس نے بہت سا مال کمایا، اور اس کے بعد چاہا کہ واپس کرنتھ پہنچے۔ چنانچہ وہ تارَنتُم سے روانہ ہوا، اور چونکہ اسے کرنتھیوں کے سوا کسی پر زیادہ اعتماد نہ تھا، اس نے کرنتھ کے آدمیوں کا ایک جہاز کرائے پر لیا۔ مگر کھلے سمندر میں ان ملاحوں نے آریون کے خلاف سازش کی، ارادہ یہ تھا کہ اسے سمندر میں پھینک دیں اور اس کا مال ہتھیا لیں۔ آریون نے یہ بات بھانپ لی اور ان سے منت کی کہ مال لے لیں مگر اس کی جان بخش دیں لیکن وہ اس پر راضی نہ ہوئے، بلکہ ملاحوں نے اسے حکم دیا کہ یا تو وہ خود اسے قتل کرنے دیں تاکہ اسے زمین میں دفن کیا جا سکے، یا فورًا سمندر میں کود جائے۔ اس سخت دھمکی کے بعد آریون بالکل بے بس ہو گیا۔ اس نے درخواست کی کہ اگر یہی ان کا فیصلہ ہے تو اسے اجازت دی جائے کہ وہ پورا لباس پہن کر، عرشے پر کھڑے ہو کر ایک بار گانا گا لے۔ گانے کے بعد وہ خود اپنی جان دے دے گا۔ یہ سن کر ملاحوں کو خوشی ہوئی، کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ انسانوں میں سب سے بہترین گلوکار کی آواز سنیں۔ چنانچہ وہ جہاز کے پچھلے حصے سے ہٹ کر بیچ میں آ گئے۔ آریون نے پورا لباس پہنا، قیثار (ساز) ہاتھ میں لیا، عرشے پر کھڑا ہوا، اور اُرتھیوس نَوموس (بلند و رسمی دھن) پوری کی۔ دھن کے اختتام پر وہ اسی حالت میں، پورے لباس سمیت، خود کو سمندر میں گرا دیتا ہے۔ ملاح کرنتھ کی طرف روانہ ہو گئے، اور روایت ہے کہ ایک ڈولفن نے آریون کو تھام لیا اور اسے تائینارون تک پہنچا دیا۔ وہاں اتر کر آریون پورے لباس سمیت کرنتھ پہنچا اور سارا واقعہ بیان کیا لیکن پیریاندرُس نے شک کی بنا پر آریون کو قید میں رکھا، اسے کہیں جانے نہ دیا، اور دوسری طرف ملاحوں کو بھی نگرانی میں رکھا۔ جب وہ حاضر ہوئے تو انہیں بلا کر پوچھا گیا کہ آریون کے بارے میں کیا جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ صحیح سلامت اطالیہ میں ہے، اور انہوں نے اسے خیریت سے تارَنتُم میں چھوڑا تھا۔ اسی لمحے آریون ان کے سامنے اسی لباس میں ظاہر ہو گیا جس میں اس نے سمندر میں چھلانگ لگائی تھی۔ ملاح یہ دیکھ کر ششدر رہ گئے اور اب ان کے پاس انکار کا کوئی راستہ نہ رہا۔ یہ واقعہ، جیسا کہ کرنتھی اور لیسبیائی دونوں روایت کرتے ہیں، اسی طرح پیش آیا۔ اور تائینارون میں آج بھی آریون کا ایک چھوٹا سا کانسی کا نذرانہ موجود ہے، جس میں ایک انسان کو ڈولفن پر سوار دکھایا گیا ہے۔


Comments
Post a Comment