Κλέο 15—22 کلیو ١٥ تا ۲۲
گیگس کے بعد
15.[1] Ἄρδυος δὲ τοῦ Γύγεω μετὰ Γύγην βασιλεύσαντος μνήμην ποιήσομαι. οὗτος δὲ Πριηνέας τε εἷλε ἐς Μίλητόν τε ἐσέβαλε, ἐπὶ τούτου τε τυραννεύοντος Σαρδίων Κιμμέριοι ἐξ ἠθέων ὑπὸ Σκυθέων τῶν νομάδων ἐξαναστάντες ἀπίκοντο ἐς τὴν Ἀσίην καὶ Σάρδις πλὴν τῆς ἀκροπόλιος εἷλον.
گیگس کے بعد ڡ۱ جب آردُیوس نے حکومت کی تو میں اس کا بھی ذکر کروں گا۔ اس نے پریئنے کو فتح کیا اور میلیطُس پر حملہ کیا۔ اسی کے عہدِ حکومت میں، جب وہ ساردیس میں اقتدار پر تھا، کِمّیری لوگ جو خانہ بدوش سکیتیوں کے ہاتھوں اپنی بستیوں سے بے دخل ہو گئے تھے ایشیاء میں آ پہنچے اور ساردیس کو (قلعہ/اکروپولس کے سوا) فتح کر لیا۔
16. [1] Ἄρδυος δὲ βασιλεύσαντος ἑνὸς δέοντα πεντήκοντα ἔτεα ἐξεδέξατο Σαδυάττης ὁ Ἄρδυος, καὶ ἐβασίλευσε ἔτεα δυώδεκα, Σαδυάττεω δὲ Ἀλυάττης. [2] οὗτος δὲ Κυαξάρῃ τε τῷ Δηιόκεω ἀπογόνῳ ἐπολέμησε καὶ Μήδοισι, Κιμμερίους τε ἐκ τῆς Ἀσίης ἐξήλασε, Σμύρνην τε τὴν ἀπὸ Κολοφῶνος κτισθεῖσαν εἷλε, ἐς Κλαζομενάς τε ἐσέβαλε. ἀπὸ μέν νυν τούτων οὐκ ὡς ἤθελε ἀπήλλαξε, ἀλλὰ προσπταίσας μεγάλως.
آردُیوس نے تقریبًا انچاس برس حکومت کی۔ اس کے بعد اس کا بیٹا سَدیاتّیس تخت نشین ہوا اور بارہ برس تک بادشاہ رہا، اور سدیاتّیس کے بعد اَلیاتّیس بادشاہ بنا۔ اَلیاتّیس نے کِیَاکسارِیس (جو دیاؤکیس کی نسل سے تھا) اور میدیوں کے خلاف جنگ کی، کِمّیریوں کو ایشیاء سے نکال باہر کیا، سمیرنا جو کولوفون کے لوگوں نے آباد کی تھی فتح کی، اور کلازومینائے پر بھی حملہ کیا۔ تاہم ان تمام کارروائیوں سے وہ اپنی مرضی کے مطابق کامیاب ہو کر نہ نکل سکا، بلکہ اسے شدید ناکامیوں اور ٹھوکروں کا سامنا کرنا پڑا۔
17. [1] ἄλλα δὲ ἔργα ἀπεδέξατο ἐὼν ἐν τῇ ἀρχῇ ἀξιαπηγητότατα τάδε. ἐπολέμησε Μιλησίοισι, παραδεξάμενος τὸν πόλεμον παρὰ τοῦ πατρός. ἐπελαύνων γὰρ ἐπολιόρκεε τὴν Μίλητον τρόπῳ τοιῷδε· ὅκως μὲν εἴη ἐν τῇ γῇ καρπὸς ἁδρός, τηνικαῦτα ἐσέβαλλε τὴν στρατιήν· ἐστρατεύετο δὲ ὑπὸ συρίγγων τε καὶ πηκτίδων καὶ αὐλοῦ γυναικηίου τε καὶ ἀνδρηίου. [2] ὡς δὲ ἐς τὴν Μιλησίην ἀπίκοιτο, οἰκήματα μὲν τὰ ἐπὶ τῶν ἀγρῶν οὔτε κατέβαλλε οὔτε ἐνεπίμπρη οὔτε θύρας ἀπέσπα, ἔα δὲ κατὰ χώρην ἑστάναι· ὁ δὲ τὰ τε δένδρεα καὶ τὸν καρπὸν τὸν ἐν τῇ γῇ ὅκως διαφθείρειε, ἀπαλλάσσετο ὀπίσω. [3] τῆς γὰρ θαλάσσης οἱ Μιλήσιοι ἐπεκράτεον, ὥστε ἐπέδρης μὴ εἶναι ἔργον τῇ στρατιῇ. τὰς δὲ οἰκίας οὐ κατέβαλλε ὁ Λυδὸς τῶνδε εἵνεκα, ὅκως ἔχοιεν ἐνθεῦτεν ὁρμώμενοι τὴν γῆν σπείρειν τε καὶ ἐργάζεσθαι οἱ Μιλήσιοι, αὐτὸς δὲ ἐκείνων ἐργαζομένων ἔχοι τι καὶ σίνεσθαι ἐσβάλλων.
اپنے عہدِ حکومت میں اس نے دیگر بھی کئی کارنامے انجام دیے، مگر جو سب سے زیادہ قابلِ ذکر ہیں وہ یہ ہیں: اس نے میلطیوں کے خلاف جنگ کی، جو اسے اپنے باپ سے وراثت میں ملی تھی۔ وہ جب حملہ آور ہوتا تو میلیطُس کا محاصرہ اس طریقے سے کرتا کہ جب زمین میں فصل خوب تیار ہوتی، اسی وقت اپنی فوج لے کر چڑھ آتا؛ اور اس کی فوجی پیش قدمی بانسریوں، چنگوں، مردانہ اور زنانہ بانسریوں کی دھنوں پر ہوتی تھی۔
جب وہ میلیطُس کے علاقے میں پہنچتا تو کھیتوں میں بنے ہوئے گھروں کو نہ تو گراتا، نہ جلاتا، نہ ان کے دروازے اکھاڑتا، بلکہ انہیں اپنی جگہ قائم رہنے دیتا۔ البتہ وہ درختوں اور زمین میں موجود فصل کو تباہ کر دیتا، اور پھر واپس لوٹ جاتا۔
کیونکہ میلطیوں کو سمندر پر غلبہ حاصل تھا، اس لیے اس کی فوج کے لیے مستقل محاصرہ ممکن نہ تھا۔ اسی وجہ سے یہ لِیدیائی بادشاہ ان کے گھروں کو منہدم نہیں کرتا تھا، تاکہ میلطی لوگ انہی گھروں سے نکل کر دوبارہ زمین بوتے اور کاشت کاری کرتے رہیں، اور وہ خود ان کی محنت کی پیداوار کو بار بار حملہ کر کے نقصان پہنچاتا رہے۔
![]() |
| میلیطُس کے کھنڈرات واقع تُرکیہ |
یوں وہ یہ طریقہ اختیار کیے ہوئے گیارہ برس تک جنگ کرتا رہا۔ ان برسوں میں میلطیوں کو دو بڑی شکستیں اٹھانی پڑیں: ایک ان کی اپنی سرزمین کے علاقے لیمنیئم میں، اور دوسری دریائے مایاندر کے میدان میں، جہاں باقاعدہ جنگیں ہوئیں۔ اب ان گیارہ برسوں میں سے چھ برس وہ تھے جن میں آردُیوس کا بیٹا سَدیاتّیس ابھی تک لِیدیوں کا بادشاہ تھا، اور انہی دنوں وہ میلطیہ پر فوج کشی کرتا رہا؛ کیونکہ یہی سدیاتّیس تھا جس نے اس جنگ کی ابتدا کی تھی۔ اس کے بعد آنے والے پانچ برس سدیاتّیس کے بیٹے اَلیاتّیس نے جنگ لڑی، جس نے جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے یہ جنگ اپنے باپ سے وراثت میں پا کر پوری شدت اور تسلسل کے ساتھ جاری رکھی۔ اس جنگ میں آئیونیوں میں سے کسی نے بھی میلطیوں کی مدد نہ کی، سوائے خیوسیوں کے، جو اکیلے ان کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے یہ مدد برابر کے بدلے کے طور پر کی؛ کیونکہ اس سے پہلے میلطیوں نے خیوسیوں کا ایریتھریائیوں کے خلاف جنگ میں ساتھ دیا تھا۔
19. [1] τῷ δὲ δυωδεκάτῳ ἔτεϊ ληίου ἐμπιπραμένου ὑπὸ τῆς στρατιῆς συνηνείχθη τι τοιόνδε γενέσθαι πρῆγμα· ὡς ἅφθη τάχιστα τὸ λήιον, ἀνέμῳ βιώμενον ἅψατο νηοῦ Ἀθηναίης ἐπίκλησιν Ἀσσησίης, ἁφθεὶς δὲ ὁ νηὸς κατεκαύθη. [2] καὶ τὸ παραυτίκα μὲν λόγος οὐδεὶς ἐγένετο, μετὰ δὲ τῆς στρατιῆς ἀπικομένης ἐς Σάρδις ἐνόσησε ὁ Ἀλυάττης. μακροτέρης δέ οἱ γινομένης τῆς νούσου πέμπει ἐς Δελφοὺς θεοπρόπους, εἴτε δὴ συμβουλεύσαντός τευ, εἴτε καὶ αὐτῷ ἔδοξε πέμψαντα τὸν θεὸν ἐπειρέσθαι περὶ τῆς νούσου. [3] τοῖσι δὲ ἡ Πυθίη ἀπικομένοισι ἐς Δελφοὺς οὐκ ἔφη χρήσειν πρὶν ἢ τὸν νηὸν τῆς Ἀθηναίης ἀνορθώσωσι, τὸν ἐνέπρησαν χώρης τῆς Μιλησίης ἐν Ἀσσησῷ.
اور بارہویں سال میں، جب فوج فصل کو جلا رہی تھی، ایک ایسا واقعہ پیش آیا: جیسے ہی کھیتی نے آگ پکڑی، تیز ہوا کے زور سے وہ آگ ایتھینا کے ایک مندر تک جا پہنچی، جس کا لقب اَسّیسیہ تھا؛ اور جب آگ نے مندر کو لپیٹ میں لیا تو وہ جل کر خاک ہو گیا۔ اس وقت تو اس واقعے پر کوئی خاص توجہ نہ دی گئی، مگر جب فوج ساردیس واپس پہنچی تو اَلیاتّیس بیمار پڑ گیا۔ جب اس کی بیماری طول پکڑ گئی تو اس نے ڈِلفی کی طرف قاصد بھیجے یا تو کسی کے مشورے سے، یا خود ہی اس نے یہ مناسب سمجھا کہ خدا سے اپنی بیماری کے بارے میں دریافت کرے۔ جب وہ قاصد ڈِلفی پہنچے تو پائتھیا نے ان سے کہا کہ وہ اس وقت تک کوئی پیش گوئی نہیں کرے گی جب تک وہ ایتھینا کے اُس مندر کو دوبارہ تعمیر نہ کر دیں جسے انہوں نے میلیطہ کی سرزمین کے مقام اَسّیسوس میں جلا دیا تھا۔
20. [1] Δελφῶν οἶδα ἐγὼ οὕτω ἀκούσας γενέσθαι· Μιλήσιοι δὲ τάδε προστιθεῖσι τούτοισι, Περίανδρον τὸν Κυψέλου ἐόντα Θρασυβούλῳ τῷ τότε Μιλήτου τυραννεύοντι ξεῖνον ἐς τὰ μάλιστα, πυθόμενον τὸ χρηστήριον τὸ τῷ Ἀλυάττῃ γενόμενον, πέμψαντα ἄγγελον κατειπεῖν, ὅκως ἄν τι προειδὼς πρὸς τὸ παρεὸν βουλεύηται. Μιλήσιοι μέν νυν οὕτω λέγουσι γενέσθαι.
میں نے ڈِلفی کے بارے میں یوں سنا ہے کہ یہ معاملہ اسی طرح پیش آیا؛ البتہ میلطی ان باتوں میں یہ اضافہ کرتے ہیں کہ پیریاندرُس جو کیپسِلوس کا بیٹا تھا اور اس زمانے میں میلیطُس پر حکمرانی کرنے والا تھراسِی بُولُس آپس میں نہایت قریبی مہمان دوست تھے۔ جب پیریاندرُس کو وہ پیش گوئی معلوم ہوئی جو اَلیاتّیس کے بارے میں صادر ہوئی تھی، تو اس نے ایک قاصد بھیجا تاکہ تھراسِی بُولُس کو یہ بات پہنچائے کہ وہ آنے والے حالات کو پیشِ نظر رکھ کر موجودہ صورتِ حال میں اپنی تدبیر طے کرے۔ پس میلطی کہتے ہیں کہ یہ واقعہ اسی طرح پیش آیا۔
![]() |
| ڈِلفی کا معبد |
21. [1]. Ἀλυάττης δέ, ὡς οἱ ταῦτα ἐξαγγέλθη, αὐτίκα ἔπεμπε κήρυκα ἐς Μίλητον βουλόμενος σπονδὰς ποιήσασθαι Θρασυβούλῳ τε καὶ Μιλησίοισι χρόνον ὅσον ἂν τὸν νηὸν οἰκοδομέῃ. ὃ μὲν δὴ ἀπόστολος ἐς τὴν Μίλητον ἦν, Θρασύβουλος δὲ σαφέως προπεπυσμένος πάντα λόγον, καὶ εἰδὼς τὰ Ἀλυάττης μέλλοι ποιήσειν, μηχανᾶται τοιάδε· [2] ὅσος ἦν ἐν τῷ ἄστεϊ σῖτος καὶ ἑωυτοῦ καὶ ἰδιωτικός, τοῦτον πάντα συγκομίσας ἐς τὴν ἀγορὴν προεῖπε Μιλησίοισι, ἐπεὰν αὐτὸς σημήνῃ, τότε πίνειν τε πάντας καὶ κώμῳ χρᾶσθαι ἐς ἀλλήλους.
پس جب یہ باتیں اَلیاتّیس تک پہنچائی گئیں تو اس نے فورًا میلیطُس کی طرف ایک منادی بھیجا، اس ارادے سے کہ تھراسِی بُولُس اور میلیطیوں کے ساتھ اس مدت کے لیے صلح کر لے جتنی مدت میں وہ معبد کی تعمیر کرا سکے۔ چنانچہ قاصد تو میلیطُس کی طرف روانہ ہو گیا، اور ادھر تھراسِی بُولُس کو پورا معاملہ پہلے ہی واضح طور پر معلوم ہو چکا تھا، اور وہ جانتا تھا کہ اَلیاتّیس کیا کرنے والا ہے؛ لہٰذا اس نے یہ تدبیر اختیار کی: شہر میں جتنا بھی غلہ موجود تھا خواہ اس کا اپنا ہو یا عام لوگوں کا اس نے سب اکٹھا کر کے بازار میں جمع کرا دیا، اور میلیطیوں کو حکم دیا کہ جب وہ خود اشارہ دے، تو اس وقت سب لوگ کھائیں پئیں اور ایک دوسرے کے ساتھ جشن اور سرور میں مشغول ہوں۔
22. [1] ταῦτα δὲ ἐποίεέ τε καὶ προηγόρευε Θρασύβουλος τῶνδε εἵνεκεν, ὅκως ἂν δὴ ὁ κῆρυξ ὁ Σαρδιηνὸς ἰδών τε σωρὸν μέγαν σίτου κεχυμένον καὶ τοὺς ἀνθρώπους ἐν εὐπαθείῃσι ἐόντας ἀγγείλῃ Ἀλυάττῃ· [2] τὰ δὴ καὶ ἐγένετο. ὡς γὰρ δὴ ἰδών τε ἐκεῖνα ὁ κῆρυξ καὶ εἶπας πρὸς Θρασύβουλον τοῦ Λυδοῦ τὰς ἐντολὰς ἀπῆλθε ἐς τὰς Σάρδις, ὡς ἐγὼ πυνθάνομαι, δι᾽ οὐδὲν ἄλλο ἐγένετο ἡ διαλλαγή. [3] ἐλπίζων γὰρ ὁ Ἀλυάττης σιτοδείην τε εἶναι ἰσχυρὴν ἐν τῇ Μιλήτῳ καὶ τὸν λεὼν τετρῦσθαι ἐς τὸ ἔσχατον κακοῦ, ἤκουε τοῦ κήρυκος νοστήσαντος ἐκ τῆς Μιλήτου τοὺς ἐναντίους λόγους ἢ ὡς αὐτὸς κατεδόκεε. [4] μετὰ δὲ ἥ τε διαλλαγή σφι ἐγένετο ἐπ᾽ ᾧ τε ξείνους ἀλλήλοισι εἶναι καὶ συμμάχους, καὶ δύο τε ἀντὶ ἑνὸς νηοὺς τῇ Ἀθηναίῃ οἰκοδόμησε ὁ Ἀλυάττης ἐν τῇ Ἀσσησῷ, αὐτός τε ἐκ τῆς νούσου ἀνέστη. κατὰ μέν τὸν πρὸς Μιλησίους τε καὶ Θρασύβουλον πόλεμον Ἀλυάττῃ ὧδε ἔσχε.
یہ سب کچھ تھراسِی بُولُس نے اسی غرض سے کیا اور پہلے ہی اعلان کرا دیا تھا کہ جب ساردیس کا منادی یہ دیکھے کہ غلے کے بڑے بڑے ڈھیر لگے ہوئے ہیں اور لوگ خوش حالی اور آسودگی میں مبتلا ہیں، تو وہ یہ حال اَلیاتّیس کو جا کر بتا دے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ منادی نے وہ سب کچھ دیکھا، پھر لیدیائی بادشاہ کا پیغام تھراسِی بُولُس تک پہنچا کر واپس ساردیس لوٹ گیا، اور جیسا کہ مجھے معلوم ہوا ہے، اس کے سوا کسی اور وجہ سے صلح واقع نہیں ہوئی۔ کیونکہ اَلیاتّیس کو یہ امید تھی کہ میلیطُس میں شدید قحط ہوگا اور عوام انتہائی بدحالی کو پہنچ چکے ہوں گے؛ مگر جب منادی میلیطُس سے واپس آیا تو اس نے وہ باتیں بیان کیں جو بالکل اس کے گمان کے خلاف تھیں۔ اس کے بعد ان کے درمیان اس شرط پر صلح ہو گئی کہ وہ ایک دوسرے کے مہمان دوست اور اتحادی ہوں گے۔ اور اَلیاتّیس نے اسَّیسیس میں اَتھینا کے لیے ایک کے بدلے دو معبد تعمیر کرائے، اور وہ خود بھی اپنی بیماری سے صحت یاب ہو گیا۔ پس میلطیوں اور تھراسِی بُولُس کے خلاف اَلیاتّیس کی جنگ کا انجام یہی ہوا۔
١. گیگس کِمّیری قوم کے تیسرے حملے میں مارا گیا اگرچہ اس کا لشکر فتحیاب ہوچکا تھا۔ ۱۲
٢. ڈِلفی کا مندر قدیم یونان میں پیشین گوئیوں کے لئے کافی مشہور تھا۔ ۱۲
فقط سہیل طاہر، سیالکوٹ





Comments
Post a Comment